فالح الحربی کون ہے؟
فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ
(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)
مصدر: جهود العلامة ربيع المدخلي في نقض شبهات الحزبيين (الفصل الثاني في نقض شبهات متعلقة ببعض قواعد الجرح والعتديل والرد على المخالف: الشبهة السادسة عشرة) کی تعلیق سے ماخوذ۔
پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام
Falih al-Harbi is a person who causes sedition on the Salafi da’wah, a person with extreme and corrupt heretical principles. And there are several letters and articles of Shaykh Rabee ﷾ in relation to his rejection of falsehood and his misguidance of the insidious Hadadi sect. And these are available in the eighth volume of his collection of books.
Shaykh Rabee ﷾ has mentioned the summary of the principles of this Hadadi and its Fajir sect in his book entitled “Usul Falah al-Harbi al-Khatira wa Ma’alaitha”:
Undoubtedly, there are principles of Falah al-Harbi which harmed the Salafi Minhaj and the Salafis and ignited the fire of sedition among the youth…….
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ سلفی دعوت پر فتنہ برپا کرنے والا، غلو اور فاسد بدعتی اصول کا حامل شخص ہے۔ اور شیخ ربیع حفظہ اللہ کے کئی ایک رسائل ومقالات اس کے اور اس کے مکار حدادی فرقے کے باطل کے رد اور اس کی گمراہیوں کا پردہ چاک کرنے کے سلسلے میں موجود ہیں۔ اور یہ آپ کے مجموعہ کتب ورسائل الشیخ ربیع کی آٹھویں جلد میں دستیاب ہیں۔ شیخ ربیع حفظہ اللہ نے اس حدادی اور اس کے فاجر فرقے کے اصول کا خلاصہ اپنے رسالے بعنوان ’’أصول فالح الحربي الخطيرة ومآلاتها‘‘ میں ذکر فرمایا ہے:
بلاشبہ فالح الحربی کے ایسے اصول ہیں جنہوں نے سلفی منہج اور سلفیوں کو نقصان پہنچایا اور نوجوانوں کے مابین فتنہ کی آگ بھڑکائی۔ اور میں نے اور میرے علاوہ دوسروں نے بھی اسے ان سے رجوع کرلینے کی نصیحت کی لیکن اس نے رجوع نہ کیا، بلکہ اسی میں ہٹ دھرمی سے جما رہا اوربلکہ اس پر مزید اصولوں کا اضافہ کرتا چلا گیا جن میں سے بعض کا ذکر میں اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول، آئمہ مسلمین اور ان کے عوام کی خیرخواہی کی خاطریہاں کروں گا ، اور واضح کروں گا کہ ان اصولوں کے نتیجے میں کیا کیا نقصانات وخطرات مرتب ہوتے ہیں۔
پہلا اصول: ایمان کے مسائل میں اس چیز کو داخل کرنا جسے یہ ’’جنس العمل‘‘ کا نام دیتا ہے، اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ایمان کی تعریف میں ایک رکن ہے۔ میں اسے اس بارے میں نصیحت کرچکا ہوں کہ ان متشابہ الفاظ سے جڑے رہنے سے بچے، انہی میں سے یہ جنس العمل بھی ہے، کیونکہ بلاشبہ یہ مجمل سا لفظ ہے۔ اور ساتھ ہی کتاب وسنت میں اس کا کوئی ذکر نہيں اور نہ ہی سلف میں سے کسی نے اسے ایمان کی تعریف میں داخل فرمایا ہے۔۔۔بلکہ اس سے مزید آگے بڑھتے ہوئے یہ کہنا کہ جو کوئی جنس العمل کے تارک کی تکفیر نہیں کرتا وہ مرجئی ہے، بلکہ غالی مرجئی ہے۔ پس اس کے اس قول کا تقاضہ ہے کہ اس نے سلف پر یہ حکم لگایا کہ وہ غالی مرجئہ تھے، حالانکہ بلاشبہ وہ تو غالی ارجاء ہو یا اس کے علاوہ سب سے لڑتے آئے ہیں۔۔۔
دوسرا اصول: عمل اس کے نزدیک (ایمان کی) شرط صحت ہے۔ اور یہ خوارج کے مذاہب میں سے ہے کہ جس کے ذریعے وہ امت کی تکفیر کرتے ہیں، اب اگر وہ کہتا ہے: ایسا نہیں۔ تو میں اس سے کہتاہوں: تم نے اس مذہب کو صحیح قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ بے شک بعض علماء کا بھی یہ قول ہے۔
تیسرا قاعدہ: اس کا ربیع اور ان کے ساتھیوں پر یہ بات چسپاں کرنا کہ وہ کہتے ہیں: بے شک عمل (ایمان کے) کمال کی شرط ہے۔ اور یہ بات ان کا جنس العمل والے مسئلے سے تعلق اور مضبوط کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے وہ اہل سنت کی تبدیع تک اور انہیں ارجاء کی تہمت لگانے تک رسائی حاصل کرسکیں۔ حالانکہ یہ بات جان لیں کہ ربیع سب سے پہلے اس قول سے منع کرنے اور روکنے والا تھا کہ عمل کمال کی شرط ہے اور سب سے آخر ہوگا جو اس سے روکتا رہے گا(ان شاء اللہ)۔۔۔
چوتھا قاعدہ: سلف فرماتے ہیں: ایمان قول وعمل ہے جو طاعات سے بڑھتا ہے اور معاصی سے گھٹتا ہے۔ پس فالح اور اس کے انصار نے ایک اور شرط کا اضافہ کردیا اور وہ یہ کہ لازم ہے تم کہو: بے شک وہ اتنا گھٹتا ہے، اتنا گھٹتا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اور اس قول کو وہ لوگوں پر واجب قرار دیتے ہیں، اور جو کوئی اس زیادتی کا قائل نہیں ہوتا اس پر مرجئی کی تہمت لگاتے ہیں اور اہل سنت کو اسی مسئلے کو لے کر شدید طریقے سے جھنجھوڑتے ہیں۔۔۔
پانچواں اصول: فالح اور اس کے ساتھیوں کا قول: جرح راویوں کے ساتھ خاص ہے۔ اور جو اہل بدعت واہواء ہیں وہ آئمہ جرح وتعدیل کی جرح میں داخل نہیں۔ کیونکہ تبدیع اور اس کا حکم لگانا یہ صرف اور صرف خاص ہے ان علماء کرام کے ساتھ جنہوں نے پوری شریعت کا احاطہ کیا ہو اور استنباط کی قدرت وملکہ رکھتے ہوں۔ جبکہ جو جرح وتعدیل کے آئمہ ہیں وہ اہل بدعت پر حکم لگانے کے اہل نہیں اور نہ ہی اہل بدعت ان کے قواعد کے اندر داخل ہیں۔۔۔
لیکن اس کے بالمقابل فالح نے اپنے کواور اپنے گروہ کو مطلق العنان چھوڑ دیا ہے کہ وہ علماء کرام اور اہل سنت کی برباطل جرح کرتے جائیں اور انہیں اور ان کے اقوال کو ساقط کرتے جائيں اپنے ان مہلک قواعد کے اسلحے سے لیس ہوکر جس کا ہم نے ذکر کیا۔۔۔
چھٹا اصول: اسی طرح سے ا س کے اور جو اس کے ساتھ ہیں ان کے اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ جو کہے: بے شک ایمان اصل ہے اور عمل فرع (کمال) ہے تو وہ مرجئی ہے۔ اور اس کے انصار طویل مدت تک اپنی ویب سائٹ پر یہی دندناتے پھرے۔ حالانکہ یہ تو قطعی طور پرآئمہ اسلام کی تبدیع ہے کیونکہ بلاشبہ وہ یہ کہتے تھے اور اسی اصول کو مقرر فرماتے تھے کہ ایمان اصل ہے اور عمل فرع ہے۔
میں نے اس بارے میں ایک مقالہ لکھا جس میں یہ وضاحت کی ہے کہ بلاشبہ یہ آئمہ سنت کا قول ہے اور پھر میں نے ان کے دلائل کو اس بارے میں ذکر کیا ہے لیکن یہ لوگ اپنے اس اصول سے چمٹے ہی رہے، اور اس کے ذریعے سے طعن وتبدیع پر بھی لگے رہے اس بیان کے بعدبھی جس پر ہر حق چاہنے والا اور اس کا احترام کرنے والا شخص قناعت کرسکتا ہے۔
ساتواں اصول: تقلید کی دعوت دینے میں غلو اور وہ بھی نہایت عجیب وغریب صورت میں جو کہ اللہ تعالی کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے اور جس چیز پر آئمہ اسلام تھے کے بالکل خلاف ہے کہ وہ تو کتاب وسنت سے اعتصام وتمسک (مضبوطی سے پکڑے رہنے) کی دعوت دیتے ہیں، کہ ان پر سختی سے کاربند رہا جائے اور ان کے نصوص کی اتباع کی جائے، اور انہيں جبڑے کے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑا جائے۔لیکن فالح نے تو تقلید کو ایسی اصل قرار دیا جس سے کوئی مستثنیٰ ہی نہيں سوائے ایسے مجتہدین کے جو اجتہاد مطلق کے درجے پر فائز ہوں۔۔۔
آٹھواں اصول: اور فالح کے اصولوں میں سے یہ ہے کہ امور شریعت میں تنازل (تسامح/چھوٹ) پر عمل کرنا جائز نہیں سوائے مستحبات یا مکروہات میں۔ اصول اسلام میں تسامح جائز نہيں بلکہ واجبات تک میں جائز نہيں، اور اصول اسلام، واجبات ومحرمات میں مصالح ومفاسد اور سد ذرائع پر نظر کرنے کو کوئی عمل دخل نہیں ، اور مصالح کی مراعت کرنے میں رخصتیں، ضرورات ومکروہات داخل نہیں جبکہ یہ اس کے خلاف ہے جو کچھ علماء اسلام نے مقرر فرمایا ہے۔۔۔
نواں اصول: مجمل کو مفصل پر محمول کرنا (یعنی ایک خاص تناظر میں)۔۔۔
دسواں اصول: یہ کہ ابو الحسن المأربی علماء کرام کے اقوال اور دلائل کو یہ کہتے ہوئے رد کیا کرتا تھا کہ: ان کا قول قبول کرنا مجھ پر لازم نہيں، لایلزمنی، لایلزمنی (مجھ پر لازم نہیں/ انہيں ماننے کا میں پابند نہیں) کہتا رہتا تھا، اور اس قول کے ساتھ وہ اور اس کے پیروکار تمسک اختیار کرکے اہل علم کے اقوال ٹھکراتے رہےکہ لایلزمنی! اور یہ فالح اس بارے میں ان سے جھگڑتا تھا، لیکن جب خود فتنے میں مبتلا ہوا تو اس کی اپنی حالت یہ ہوگئی کہ علماء کرام کے اقوال اور حجتوں کو یہی کہتے ہوئے رد کرتا ہے: لایلزمنی!
گیارہواں اصول: ابو الحسن المأربی ایک اصول کو بے موقع ومحل استعمال کرتا تھا کہ التثبت (بات کی تحقیق وتثبت لازم ہے) یعنی اس کا جو حقیقی موقع ومحل ہے شریعت میں اس سے ہٹ کر استعمال کرتا تھا۔ تو ہر اس کلام کے بارے میں جس میں اس کابرحق رد کیا گیا ہوتا کہتا تثبت ضروری ہے، اگرچہ اس کے کہنے والے کبار علماء ہی کیوں نہ ہوں۔ اور اب فالح کا حال یہ ہوگیا کہ وہ ان علماء کرام پر طعن کرتا ہے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں اور حق بھی انہی کے ساتھ ہوتا ہے، ان پر وہ اسی اصول کے تحت طعن کرتا ہے کہ جب وہ علماء میری (ربیع کی) نصیحت کی تائید کرتے ہیں تو ان پر تشنیع کرتا ہے اور ان پر جلدی بازی اور عدم تثبت کی تہمت لگاتا ہے۔ اس کی مزید تاکید اس بات سے ہوتی ہے کہ ہمارے اس آج کے دن تک اس نے عدم تثبت کی جو تہمت لگائی تھی اس سے رجوع نہیں کیا، جو کہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فالح اپنے ہوائے نفس کے ساتھ ہی گردش کرتا ہے، اور اس کے متبعین بھی اسی کے فلک میں گردش کرتے ہيں۔۔۔
